National NewsUncategorized

نوڈیرو:گڑہی خدا بخش بھٹو میں سانحہ کارساز کے 20 گمنام شہداء کی 19ویں برسی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی

نوڈیرو:گڑہی خدا بخش بھٹو میں سانحہ کارساز کے 20 گمنام شہداء کی 19ویں برسی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی ، قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی، سانحہ کارساز کے شہداء کی 19ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کی جانب سے گڑھی خدا بخش بھٹو میں جانثارانِ بینظیر قبرستان کے اندر ’’میں بھٹو ہوں‘‘ کے نام سے مدفون 20 گمنام شہداء کی قبروں پر قرآن خوانی کی گئی اور فاتحہ خوانی کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، تقریب میں رکن قومی اسمبلی خورشید احمد جونیجو، رکن سندھ اسمبلی جمیل سومرو، صوبائی مشیر بلند خان جونیجو، ڈسٹرکٹ چیئرمین اعجاز لغاری، حاجی عبدالخالق بھٹو، سرفراز میرانی، سلیم منگی، توفیق بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین ونگ کی رہنماؤں پرہ سڪینہ گاد، مراداں چانڈیو، امینہ ناریجو، زہرا بلوچ اور اشرف سومرو سمیت خواتین کارکنان بھی موجود تھیں، قرآن خوانی کے بعد رہنماؤں اور کارکنوں نے شہداء کی قبروں پر حاضری دی، چادریں چڑھائیں، پھول نچھاور کیے اور فاتحہ خوانی کی، اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو کراچی کے علاقے کارساز میں ہونے والا سانحہ تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس سانحے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور محترمہ بینظیر بھٹو کے جانثاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیوں کو ہر سال عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے، رہنماؤں کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید شاہنواز بھٹو، شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانیوں کی تاریخ طویل ہے اور پارٹی کارکن اپنے قائدین کی جدوجہد اور قربانیوں کو مشعلِ راہ سمجھتے ہیں، یاد رہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو 2007 میں جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس پہنچی تھیں، جہاں کراچی ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے لاکھوں افراد جمع ہوئے۔ بعد ازاں نکالی جانے والی استقبالیہ ریلی کو کارساز کے مقام پر یکے بعد دیگرے دو خودکش دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو اس حملے میں محفوظ رہیں، تاہم بڑی تعداد میں ان کے کارکن اور جانثار شہید و زخمی ہوئے، ان شہداء میں 20 ایسے افراد بھی شامل تھے جن کی شناخت نہ ہو سکی، انہیں ’’میں بھٹو ہوں‘‘ کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں 2008 میں سندھ حکومت کے دور میں ان کی میتیں سرد خانے سے نکال کر گڑھی خدا بخش بھٹو کے جانثارانِ بینظیر قبرستان میں دفن کی گئیں اور ان کی قبروں پر ’’میں بھٹو ہوں‘‘ کی تختیاں نصب کی گئیں،سانحہ کارساز کو 19 سال گزرنے کے باوجود واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور شہداء کے اہلِ خانہ کو انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سوالات بدستور موجود ہیں، شہداء کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

Related posts

نوڈیرو اور اس کی تاریخ کی مختصر روداد

admin

نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے 100 سے زائد کمپنیوں کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں۔صوبائی سینئر وزیر

admin

ویب سائیٹ پر کام جاری ہے اس وجہ سے مواد شامل نہیں

admin

Leave a Comment